ان کا پیدائشی نام لیلیٰ تھا۔ مگر سب انہیں صرف «الشفاء» یعنی «شفا» کہہ کر پکارتے تھے۔
الشفاء اولین مسلم خواتین میں سے تھیں اور ابتدا ہی میں مدینہ کی طرف ہجرت کر گئیں۔ وہ ایک ایسی صلاحیت رکھتی تھیں جو اُس زمانے میں کم ہی لوگوں کو میسر تھی، نہ مردوں کو نہ عورتوں کو: پڑھنا اور لکھنا۔ اسی بنا پر وہ اسلام کی اولین معلمات میں سے ایک بن گئیں۔ نبی کریم ﷺ نے تو اپنی زوجہ حفصہؓ کو بھی ان کے سپرد کیا تاکہ وہ انہیں لکھنا سکھائیں۔ یہی حفصہؓ تھیں جنہوں نے بعد میں قرآن کا ایک مکمل نسخہ اپنے پاس محفوظ رکھا۔
اس کے علاوہ وہ جلدی بیماریوں کے علاج میں بھی مہارت رکھتی تھیں۔ ان کا علم اس قدر مسلّم تھا کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے اسے منتقل کرنے کی درخواست فرمائی: «کیا تم حفصہ کو النملہ کا علاج نہیں سکھاؤ گی، جیسے تم نے اسے لکھنا سکھایا ہے؟» ان کے فنِ طب کو نہ صرف گوارا کیا گیا، بلکہ صراحتاً اس کی خواہش کی گئی۔
ان کا عوامی کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ روایت کے مطابق خلیفہ عمر بن الخطابؓ نے انہیں مدینہ کے بازار کی ایک نگرانی سونپی، جہاں وہ ایماندارانہ تجارت کی نگہبانی کرتی رہیں۔ بعض مآخذ اسے اسلام میں کسی خاتون کو سونپے گئے اولین عوامی مناصب میں سے ایک قرار دیتے ہیں؛ تاہم اس بارے میں روایات متفق علیہ نہیں۔ البتہ یہ بات مسلّم ہے کہ ابن حجر عسقلانی نے انہیں اپنے زمانے کی نہایت دانا خواتین میں شمار کیا۔
ہم بہت سی مشہور شخصیات کے نام جانتے ہیں۔ مگر وہ خاتون جن کا نام ہی «شفا» کے معنی رکھتا ہے، انہیں آج بمشکل کوئی جانتا ہے۔
وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلْقُرْءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ
«اور ہم قرآن میں سے وہ نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔»
سورۃ الاسراء (۱۷:۸۲)
ہنر اور ایمان باہم جڑے ہیں
الشفاء کے ذریعے یہ سمجھ آتی ہے کہ ابتدائے اسلام میں علم، فنِ طب اور ایمان باہم پیوست تھے۔ وہ لوگوں کو پڑھنا سکھاتیں تاکہ وہ قرآن سمجھ سکیں، اور وہ مریضوں کا علاج بھی کرتیں۔ ان کے نزدیک «دنیاوی» اور «دینی» کی کوئی تقسیم نہ تھی۔ ایک اچھی مسلمان ہونے کا مطلب یہ تھا کہ جو ہنر آپ کو حاصل ہو، اس سے لوگوں کی خدمت کریں۔ ہنر اور ایمان کا یہی امتزاج شعبۂ طب آج بھی تلاش کرتا ہے۔