اس سے ایک ہزار سال سے بھی پہلے کہ دنیا فلورنس نائٹنگیل کا نام جانتی، مدینہ میں ایک خاتون موجود تھیں جو بالکل وہی کر رہی تھیں جسے ہم آج تیمارداری کہتے ہیں۔
رفیدہ ایک طبیب کی بیٹی کے طور پر پروان چڑھیں۔ اپنے والد سے انہوں نے زخم صاف کرنا، پٹیاں باندھنا اور بخار میں تخفیف کرنا سیکھا۔ اس علم کو انہوں نے کوئی کاروبار نہیں، بلکہ ایک خدمت بنا دیا۔
نبی کریم ﷺ کی مسجد کے بالکل پہلو میں انہوں نے ایک خیمہ قائم کیا، جو پٹیوں، جڑی بوٹیوں، پانی اور ہر اُس چیز سے آراستہ تھا جس کی مریضوں کو ضرورت ہوتی۔ یہ اسلامی تاریخ کا پہلا تیمارداری خیمہ تھا۔ جو بھی زخمی ہوتا، اسے رفیدہ کے پاس لایا جاتا۔
جب جلیل القدر صحابی سعد بن معاذؓ غزوۂ خندق میں ایک تیر سے بازو کی رگ میں زخمی ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں مسجد کے ایک خیمے میں منتقل کرایا تاکہ قریب رہ کر ان کی عیادت فرما سکیں۔ سیرت کے مطابق یہ رفیدہ ہی کا خیمہ تھا۔ نوزائیدہ مسلم جماعت کے ایک نہایت اہم شخص کو اُن کے ہاتھوں میں سونپا گیا۔
رفیدہ تنہا میدان میں نہ گئیں۔ انہوں نے خواتین کے ایک پورے گروہ کو تیمارداری کی تربیت دی اور ان کی قیادت کی۔ اپنی خدمت کے عوض انہیں نبی کریم ﷺ کی جانب سے مالِ غنیمت میں اتنا ہی حصہ ملا جتنا ایک لڑنے والے سپاہی کو ملتا تھا۔ یوں تیمارداری کو جہاد کے ہم پلہ قرار دیا گیا۔
مگر ان کا اصل کارنامہ خاموشی میں، جنگوں کے درمیان تھا۔ وہ یتیموں، محتاجوں اور معذور افراد کی خبرگیری کرتیں۔ وہ صفائی کی تعلیم دیتیں، فراموش کیے گئے لوگوں تک جاتیں اور اپنا علم آگے منتقل کرتیں۔ ان کے نزدیک طب کوئی ایسی چیز نہ تھی جو امیروں کے لیے مخصوص رہے۔ ان کا خیمہ ہر ایک کے لیے کھلا تھا۔
ایک خاتون نے چودہ سو سال پہلے اسلام کا پہلا تیمارداری مرکز قائم کیا۔ بحرین میں آج بھی ہر سال ایک نرسنگ ایوارڈ ان کے نام پر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ان کا نام بمشکل کوئی جانتا ہے۔ حالانکہ مسلم تیمارداری کی تاریخ انہی سے اور مسجد کے پہلو میں ایک خیمے سے شروع ہوتی ہے۔
وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحْيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعٗا
«… اور جس نے اسے زندگی بخشی تو گویا اس نے سب انسانوں کو زندگی بخش دی۔»
سورۃ المائدہ (۵:۳۲)
ہمدردی کو نظام میں ڈھالنا
رفیدہ کے ذریعے یہ سمجھ آتی ہے کہ اسلام ایمان اور فنِ طب کو کس قدر گہرائی سے جوڑتا ہے۔ یہاں مریض کی خدمت کوئی کمتر کام نہیں، بلکہ عملی رحمدلی شمار ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مومنوں کو ایک ہی جسم سے تشبیہ دی: جب اس کا ایک عضو تکلیف میں ہو تو پورا جسم بے خواب اور بخار میں اس کے ساتھ مبتلا ہو جاتا ہے۔ رفیدہ نے اس فرمان پر صرف ایمان نہیں رکھا، بلکہ اسے منظم بھی کیا۔ ہمدردی سے انہوں نے ایک خیمہ، ایک ٹیم اور ایک نظام تشکیل دیا۔ یہی کام آج بھی شعبۂ طب و تیمارداری کا فریضہ ہے۔